ہری پور شہر کی تاریخ

 #تاریخی_سلسلہ_پارٹ_2


ہری پور شہر کی بنیاد1821ء میں سکھ جنرل ہری سنگھ نلوہ نے فوجی نقطہ نظر سے رکھی۔ ہری پور شہر میں ایک قلعہ تعمیر کیا گیا جس کی دیواریں 4 میٹر چوڑی اور16 میٹر اونچی تھیں۔ قلعہ میں داخل ہونے کے لیے چار دروازے تھے۔ ہري پور کا نام رنجيت سنگھ کے ايک سِکھ جرنيل ہری سنگھ نالوا کے نام پر رکھا گيا۔ ہری پور تحصيل کو يکم جولائی 1992ء ميں ضلع کا درجہ دے کر ضلع ايبٹ آباد سے علیحدا کر دياگيا۔

جغرافیہ  کے لحاظ سے یہ شہر اسلام آباد سے 65 کلومیٹر اور ایبٹ آباد سے 35 کلومیٹر دور واقع ہے۔ اس ضلع کو جغرافيائی محلِ وقوع کے لحاظ سے کليدی حيثيّت حاصل ہے۔ کيونکہ يہ ضلع ہزارہ ڈویژن اور صوبہ خیبر پختونخوا کے مابين ايک پھاٹک کا درجہ رکھتا ہے۔ دنيابھر ميں مٹی کا بنا ہوا سب سے بڑا بند تربیلا بند اسی ضلع ميں دریائے سندھ پر تعمير کيا گيا ہے۔ يہ ڈيم 2200 ميگاواٹ بجلی پيدا کرتا ہے۔ صنعتی لحاظ سے ہری پور صوبہ خیبر پختونخوا ميں بڑ ا ضلع ہے بڑے بڑے صنعتی يونٹ جيسے ٹيليفون فيکٹری، ہزارہ فرٹيلائزر، پاک چائنا فرٹيلائزر، تربيلا کاٹن ملز اور کئی اُونی کارخانے قائم ہيں۔ علاوہ ازيں حطار انڈسٹریل اسٹیٹ ميں کئی چھوٹے بڑے کارخانے لگائے گئے ہيں۔


ان صنعتوں کي وجہ سے يہ ضلع ملکي سطح پر معاشی ترقی ميں ايک اہم کردار ادا کر رہاہے۔ ہری پور نے جہاں درميانی اور بڑی صنعتوں کے قيام ميں اہم پيش رفت کی ہے وہاں زرعی ميدان ميں بھی اس کاکردار قابلِ ستائش ہيں۔ یہ ضلع خاص کر سبزی اور پھل نہ صرف پشاور بلکہ اسلام آباد اور صوبہ پنجاب کو بھی مہياکرتا ہے۔ پشاور سے اسلام آباد موٹر وے اور غازی بروتھا بند پراجيکٹ کے قيام سے ضلع کی سماجی اور معاشی ترقی مزيد يقينی ہونے کا امکان ہے۔

تبصرے