اللہ والوں کی حکمت سے بھری باتیں
اللہ والوں کی باتیں :فرمایا اگر کسی شخص کو دیکھو جو ہوا میں چار زانو بیٹھا ہوں
تو بھی اس کی اقتداء نہ کرو جب تک اس کے عمل کو نہ دیکھ لو اگر تم اس کے عمل پر
کاربند دیکھو تو اس کی اتباع کرو ورنہ نہیں بلکہ اس سے اجتناب کرو (حضرت جنید
بغدادی ) مہمان نوازی : مہمان نوازی نوافل سے بہتر ہے (حضرت جنید بغدادی )مصائب
:مصائب عارفین کے لیے چراغ 'مریدین کے لیے بیداری' مومن کے لیے اصلاح' غافلین کے
لیے ہلاکت ہے۔( حضرت جنید بغدادی )صبر : مومن مصائب پر صبر کئے بغیر ایمان کی حلاوت
نہیں پا سکتا (حضرت جنید بغدادی )قیمتی سانس: سانس جو خدا کے لئے ہو وہ تمام عالم
کے عابدین کی عبادت سے بہتر ہے ۔(حضرت شبلی ) ۔ ۔۔۔۔خوف کے سبب انعام :جس دن مجھ پر
خوف کا غلبہ ہوتا ہے اسی دن میرے اوپر حکمت و عبرت کے دروازے کھل جاتے ہیں (حضرت
شبلی ) عارف حقیقی: عارف وہی ہے جو خدا کے سوا نہ تو کسی اور کے مشاہدے کی خواہش
رکے نہ کسی اور کی محبت میں مبتلا ہوں نہ کسی اور کو اپنے نفس کا ماخذ تصور کرے
(حضرت شبلی ) اہل معرفت :اہل معرفت کے لئے معمولی سی غفلت بھی شرک ہے حضرت شبلe>>شریعت اور طریقت :عبادت الہٰی خیریت ہے اور خدا کی طلب طریقت ہے ۔(حضرت شبلی )ایک گناہ :حضرت خواجہ حسن بصری کے بچپن میں ایک گناہ سرزد ہوگیا جس کی پاداش میں آپ جب بھی نیا پہرن تیار کرواتے تو اس کے گریبان پر وہ گناہ درج کرتے تھے اور اسی کو دیکھ کر اتنا روتے کہ خوشی طاری ہو جاتی ۔ خط کا جواب :حضرت عمر بن عبدالعزیز نے خواجہ حسن بصری کو مکتوب ارسال کیا جس میں کی کہ مجھے کوئی ایسی نصیحت فرمائی کہ میرے تمام امور میں معاون ہو سکی حضرت خواجہ حسن بصری نے جواب میں لکھا اگر "اللہ تعالی تمہارا معاون نہیں ہے" تو پھر کسی سے بھی معاونت کی توقع ہرگز نہ رکھو کہ دوسرے مکتوب میں لکھا اس دن کو بہت ہی نزدیک جانتے ہو کہ دنیا فنا ہو جائے گی اور صرف آخرت باقی رہ جائے گی۔روشنی کہاں گئی :ایک مرتبہ حضرت خواجہ حسن بصری میں ایک لڑکے کو دیکھا کہ وہ ایک چراغ لئے چل رہا تھا تو آپ نے اس سے پوچھا روشنی کہاں سے لے کر آیا ہے اس نے چراغ گل کرتے ہوئے کہا کہ پہلے بتائیں کہ روشنی کہاں غائب ہو گی اس کے بعد میں آپ کے سوال کا جواب دوں گا روشنی کہاں سے آتی ہے ۔انوکھی دعا ایک مرتبہ حضرت اویس کرنی بیمار ہوئے :برص کے مرض میں مبتلا ہوئے تو بارگاہ الٰہی میں اس کی طرح دعا کی کال آئی مجھ سے یہ مرض دور کردے البتہ ایک نشان میرے جسم پر باقی رہے اور شفقت یاد کرتا ہوں ۔آپ کی بیعت لی پر ایک درہم کے برابر سفید نشان تھا ۔
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں