حسن بانو کے حاتم طائی سے سات سوالات
حسن بانو کے حاتم طائی سے سات سوالات>
یمن کا ایک بادشاہ تھا اس کے ہاں ایک بیٹے کی پیدائش ہوئی ۔تو اس نے نجومیوں سے اس
لڑکے کے مستقبل کے بارے میں دریافت کیا ۔تو انہوں نے شہزادے کو ہر طرح سے صاحب
اقبال پایا اور بادشاہ کو بتایا کہ یہ ہر وقت "اللہ کی خوشنودی کے لیے کام کرتا رہے
گا ۔بادشاہ یہ سن کر بہت خوش ہوا اور نجومیوں کو نام سے نوازا ۔بادشاہ نے اپنے بیٹے
کا نام حاتم رکھا ۔جس سال حاتم پیدا ہوا' اس سال اس ملک میں 6000 بچے پیدا ہوئے۔
بادشاہ نے اپنے بیٹے کی پیدا ہونے کی خوشی میں تمام بچوں کی پرورش کا ذمہ لیا۔ حاتم
بچپن ہی سے نہ روتا تھا نہ اکیلے کھاتا تھا' اور نہ ہی کبھی غفلت کی نیند سویا تھا
۔فضل خدا سے جب حاتم 14 برس کا ہوا۔جو دولت باپ نے جمع کی تھیں وہ سب غریبوں میں
تقسیم کر دی۔ جب شکار کو جاتا ہے جانور کو جیتا ہی پکڑتا اور اسے چھوڑ دیتا۔ایک دن
شکار کے لئے جنگل میں گیا تو ادھر ایک شعر غراتا ہوا نکل آیا ۔حاتم پہلے تو گھبرا
گیا پھر اس کو اندیشہ ہوا کہ اگر میں اس کو خنجر مارتا ہوں یہ بے زبان زخمی ہو جائے
گا یا پھر مر جائے گا۔اگر اسے چھوڑ دیتا ہوں تو خود جان گنواتا ہوں ۔سوچنے لگا اگر
مجھے کھا جائے گا اس کا پیٹ بھر جائے گا ۔اور مجھے ثواب ہو گا۔ چنانچہ حاتم شیر کے
آگے گیا اور بولا"اے شیر صحرا ہیں !میرا اور میرے گھوڑے کا گوشت حاضر ہے،اپنا پیٹ
بھرا اور چلا جا ! یہ سنتے ہی شیر اپنا سر جھکا کر خاتم کے قدموں میں گر پڑا۔یہ
دیکھ کر کہا حاتم نے کہا کہ یہ مناسب نہیں تو تم میرے پاس سے بھوکے جاؤ۔ اگر مجھے
نہیں کھاتا تو میرا گھوڑا حاضر ہے۔ شیر کچھ نہ بولا اور سر جھکا کر چلا گیا ۔غرض
حاتم برابر خلق خدا کی خدمت کرتا رہتا تھا ۔ اسی زمانے میں ملک ہراساں کا ایک
بادشاہ تھا اس کے عدل و انصاف کا یہ عالم تھا کہ شیر اور بکری ایک ہی گھاٹ میں پانی
پیتے تھے ۔اس جگہ ایک بہت بڑا مالدار سوداگر رہا کرتا تھا ۔ بادشاہ اس پر بڑا
مہربان تھا۔ اور اس کی ایک ہی بیٹی تھی 'جس کا نام تھا حسن بانو۔سوداگر کا جب آخری
وقت آن پہنچا تو حسن بانو بارہ سال کی تھی۔چنانچے سوداگر نے حسن بانو کو بادشاہ کے
حوالے کیا اور خود ابدی نیند سوگیا ۔ بادشاہ نے سداگر کی ساری دولت اس کی بیٹی کے
حوالے کردیں ۔جب لڑکی بڑی ہوئی تو اپنی دائیں سے کہنے لگی اے مہربان ماں! میں اکیلی
اتنی دولت کا کیا کروں گی بہتر ہے راہ خدا میں خرچ کر دوں اور خود شادی بیاہ نہ
کرو۔ بلکہ یاد اللہ میں مشغول ہو جاؤں۔ اب تم بتاؤ شادی سے کیسے چھٹکارا پاؤں ۔دائی
نے کہا تم ان سوالوں کو لکھ کر دروازے پر لٹکا لو اور لکھ دوں جو سوال کو پورا کرے
گا ۔ میں اس کو قبول کروں گی وہ سوال یہ ہے۔ پہلا سوال یہ ہے ایک بار دیکھا ہے
دوسری بار دیکھنے کی ہوس ہے ۔ دوسرا سوال یہ ہے نیکی کر دریا میں ڈال ۔ تیسرا سوال
یہ ہے بدی کسی سے نہ کر کرے گا تو وہی پائے گا ۔ چوتھا سوال یہ ہے کہ سچ کہنے والے
کے آگے ہمیشہ راحت ہوتی ہے۔ پانچواں سوال یہ ہے" کوہ ندا "کی خبر لائے ۔ چھٹا سوال
یہ ہے کہ جو موتی مرغابی کے انڈے کے برابر ہے اس کی جوڑی پیدا کرے ۔ 07 سوال یہ ہے
کہ حمام بادگر کی خبر لائے۔ حسن بانو کو یہ مشورہ پسند آیا اور سوچنے لگی ایسا کون
ہوگا سات سوالوں کے جواب لائے گا ۔ ایک دن حسن بانو اپنے کوٹھے پہ بیٹھی بزار کا
تماشہ دیکھ رہی تھی کہ اتنے میں ایک فقیر نہایت ہی بزرگ صورت اپنے چالیس خادموں کو
لیے اس طرف اس ادا سے گزرا کہ پاو بھی زمین پر نہ رکھتا تھا ۔اس کے وہی خادم پاؤں
کے نیچے سونے کی اینٹیں رکھ لے جاتے تھے اور وہ سونے کی اینٹوں پے گزرتا جاتا تھا ۔
یہ سب دیکھ کر اپنی اماں سے کہنے لگی کہ دایما یہ فقیر بڑا صاحب کمال لگتا ہے ۔
اماں کہنے لگیں بیٹا یہ بادشاہ کا پیر ہے بادشاہ ہر مہینے اس سے ملنے جاتا ہے ۔ اور
یہ بھی کبھی کبھار بادشاہ کے پاس آ جاتا ہے ۔حسن بانو کے کہنے لگی اگر آپ اجازت دے
تو اس درویش کو میں گھڑی دو گھڑی کے لیئے اپنے گھر آنے کی زحمت دینا چاہتی ہوں ۔
دوسرے دن فقیر اپنے 40 فقیروں کے ساتھ حسن بانو کے گھر آ پہنچا ۔ حسن بانو نے خود
اس کا استقبال کیا اور اس کی نشست پر بٹھا دیا۔ حسن بانو نے چاندی کے برتنوں میں ان
کے آگے کھانا رکھا ۔ فقیر کھانا کھانے لگا اور سوچنے لگا کہ یا سونے چاندی کے
زیورات ان کے پاس کہاں سے آئے۔ قید نے خوب سیر ہو کر کھانا کھایا اور حسن بانو کو
دعائیں دے کر چلا گیا ۔ اتنے میں رات ہوگی اور سارے ملازم تھک گئے تھے تھک ہار کر
وہ سو گئے اور وہ فقیر آپ نے چالیس چوروں کے ساتھ حویلی پہ آ پڑا ۔سارا سامان لوٹ
لیا اور جو جاگ گیا اس کو زخمی کردیا ۔ حسن بانو کے کھڑکی سے یہ سارا منظر دیکھ رہی
تھی اس نے اس فقیر کو پہچان لیا تھا۔ جاری ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں