ایبٹ آباد کا ایسا گاؤں جس کی خوبصورتی کے بارے میں بہت کم لوگ جانتے ہیں

 ایبٹ آباد کا ایسا گاؤں جس کی خوبصورتی کے بارے میں ۔بہت کم لوگ جانتے ہیں 

گاؤں تھنا کلاں ایبٹ آباد سے 12 کلو میٹر اور  شملہ پہاڑی صرف سات کلومیٹر دور واقع ہے۔ یہ  گاؤں اونچے ہپہاڑوں کے وسط میں واقع ہے۔ موسم سرما میں برف باری ہوتی ہے۔ اور موسم گرما میں انتہائی موسم خوشگوار رہتا ہے ۔جہاں سے آپ ناران کاغان مانسہرا اور تربیلا جھیل کا نظارہ باآسانی کر  سکتے ہیں  ۔ یہاں کے تمام پہاڑ سر سبز  اور اونچےپہاڑ ۔ہیں 

 ۔
 یہاں کے لوگ بہت محنتی اور جفاکش ہیں ۔مہمان نوازہیں 
 چیڑ اور دیودار کے درخت کثرت سے پائے جاتے ہیں۔ جو  اس علاقے کی خوبصورتی مزید اضافہ کرتے ہیں ۔یہاں پہ میٹھے پانی کے بہت سارے چشمے ہیں ۔قدرتی حسن سے مالا مال یہ گاؤں بہت سارے مسائل میں گھرا ہوا ہے ۔یہاں پہ لوگوں کو روزانہ کی بنیاد پر کءی مسائل کا سامنا ہے ۔گاؤں کی سڑک ابھی کچی ہے پر گیس نہ ہونے کی وجہ سے لوگ لکڑیاں جلا ۔کر کھانا بناتے ہیں ۔یہاں تعلیم اور صحت کے مسائل بھی ہیں ۔یہاں پر لڑکیوں کا کوئی بھی ہائی سکول نہیں ہے۔ جس کی وجہ سے ان کو ایبٹ آباد جانا پڑتا ہے ۔اور بہت ساری لڑکیاں تعلیم سے محروم ہو جاتی ہیں ۔ہسپتال نہ ہونے کی وجہ سے بہت سے مریض راستے میں دم توڑ جاتے ہیں۔ 

ں یہاں پر مختلف جنگلی جانور پائے جاتے ہیں۔ چیتاشیر خرگوش اور عقاب  جیسے نایاب پرندے پائے جاتے ہیں۔اگر  گورنمنٹ علاقے پر توجہ دے تو اس کی محرومیاں ختم ہو سکتی ہے۔پہاڑی علاقہ  ہونے کی وجہ سے یہاں پر لوگ زیادہ تر سرکاری ملازمت کرتے ہیں۔   
 

تبصرے